1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’آئرش پب میں ہلکی سی مدہوشی سہی‘

جرمن وزیرخارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے بریگزٹ کے بعد اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ ایک آئرش پب میں ہلکی پھلکی مدہوشی کے لیے جا رہے ہیں۔

اشٹائن مائر نے ہفتے کے روز کہا کہ یورپی یونین برطانیہ کی جانب سے بریگزٹ کے فیصلے پر دھچکے کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں برلن میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔

اس اجلاس میں یورپی یونین کی چھ بانی ریاستوں کے وزرائے خارجہ شریک تھے۔ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے اس موقع پر کہا، ’مجھے یقین ہے کہ یہ ممالک ایک واضح پیغام دے رہے ہیں کہ یورپ کو ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا۔‘‘

یورپی یونین کی ان چھ بانی ریاستوں، جرمنی فرانس، اٹلی، ہالینڈ، بیلجیم اور لکسمبرگ کے وزائے خارجہ بریگزٹ کی صورت حال کے تناظر میں برلن پہنچے ہیں۔ تاہم اس سے قبل اشٹائن مائر نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’ہم اب ایک آئرش پب کی طرف جا رہے ہیں تاکہ تھوڑا سا مدہوش ہو سکیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’کل سے ہم دوبارہ سے ایک بہتر یورپ کے لیے کام کا آغاز کر دیں گے۔ وعدہ رہا۔‘‘

اشٹائن مائر کا یہ ٹوئٹر پیغام ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مرتبہ شیئر بھی ہوا۔

جمعے کے روز اس پیغام سے قبل متعدد یورپی رہنماؤں کی نہایت سنجیدہ اور غمگین پوسٹ سوشل میڈیا پر سامنے آئیں، جس میں یورپی اتحاد کی ترجمانی کی گئی۔ جرمن وزارت خارجہ نے بھی گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یورپی پرچم کی تصویر آویزاں کر دی۔

برلن میں ہفتے کی صبح اس اہم اجلاس میں برطانوی عوام کی جانب سے بریگزٹ کے فیصلے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق گزشتہ شب ایک آئرش پب میں غم غلط کرنے والے جرمن وزیرخارجہ نے اپنی صبح کی ملاقات میں آئرلینڈ کو مدعو نہیں کیا تھا، کیوں کہ آئرلینڈ یورپی یونین کا رکن ملک تو ہے، تاہم بانی ممالک میں سے ایک نہیں۔