1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آئرش وزیراعظم پارٹی قیادت سے مستعفی

آئرلینڈ کے وزیر اعظم برائن کوون نے حکمران جماعت کی قیادت چھوڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ معیشت کے استحکام کے لیے بجٹ قوانین پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی قیادت کے لیے ان کی جگہ لینے کے لیے امیدوار بھی سامنے آ گئے ہیں۔

default

آئرلینڈ کے وزیراعظم برائن کوون

برائن کوون نے حکمران جماعت Fiana Fail کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا اعلان ہفتہ کو ڈبلن میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا، ’ہر بات مدِ نظر رکھتے ہوئے اور اپنے خاندان سے صلاح مشورے کے بعد، میں نے اپنی مرضی سے پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ وزیراعظم کے طور پر 11مارچ کے پارلیمانی انتخابات تک ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔ آئرلینڈ میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری سیاسی بے یقینی کے تناظر میں اس پیش رفت کو حیرت انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔ برائن کوون کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو ’اندرونی خلفشار‘ سے پاک فضا میں انتخاب لڑتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ بجٹ قوانین کی منظوری پر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ آئرلینڈ کی اقتصادی بحالی کے لیے یورپی یونین اور آئی ایم ایف کی جانب سے مالیاتی امدادی پیکیج کو یقینی بنایا جا سکے۔

ابھی گزشتہ منگل کو ہی انہیں اپنی پارٹی میں عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا تھا، جس میں وہ محفوظ تو رہے ہیں لیکن ان کی پوزیشن کو کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ سے کافی نقصان پہنچا ہے، جس کے تناظر میں انہیں انتخابات کی تاریخ کا اعلان بھی کرنا پڑا۔

دوسری جانب آئرلینڈ کے سابق وزیر خارجہ مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ وہ حکمران جماعت کی قیادت کے لیے امیدوار ہوں گے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ متعدد تجزیہ کاروں کی رائے میں بھی اس جماعت کی قیادت کے لئے مارٹن ہی فیورٹ ہیں۔

Micheal Martin irischer Außenminister

سابق آئرش وزیر خارجہ مائیکل مارٹن

وزیر خزانہ Brian Lenihan بھی اس پوزیشن کے لیے امیدوار ہیں جبکہ وزیر دفاع Eamon O Cuiv نے بھی اس مقابلے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ کوون پر گزشتہ کچھ عرصے سے پارٹی کی جانب سے شدید دباؤ تھا اور ان کی کابینہ کے کئی ارکان کی جانب سے پے در پے استعفے سامنے آئے ہیں۔ کوون کو آئرلینڈ کو درپیش مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے گئے گئے فیصلوں اور سخت ترین مالیاتی اصلاحات کی وجہ سے شدید عوامی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ حالیہ عوامی جائزوں میں ان کی پارٹی کی مقبولیت میں بھی ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس