1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

طالبان کے ساتھ براہ راست امریکی مذاکرات، امکانات کیا ہیں؟

19 جولائی 2018

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی خاطر تمام امکانات پر غور کیا جا رہے اور اس تناظر میں ٹرمپ کی انتظامیہ کابل حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

https://p.dw.com/p/31mGa
Afghanistan NATO-Training für afghanische Sonderkomandos
تصویر: DW/S. Tanha

اتوار کے دن نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکومت کے حوالے سے بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے سفارتکاروں سے کہا کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی کوشش شروع کر دیں۔ اس پیشرفت کو امریکی حکومت میں ایک بڑی تبدیلی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں واشنگٹن حکومت افغان طالبان کے ساتھ  براہ راست رابطے کے حق میں نہیں تھی۔

اسی طرح کی خبر نیوز ایجنسی روئٹرز نے بھی شائع کی، جس میں افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ واشنگٹن حکومت افغانستان میں قیام امن کی خاطر طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہو چکی ہے۔

’پاکستان اب طالبان پر اثر و رسوخ کھو چکا ہے‘

اس خبر سے ایک امریکا، پاکستان اور افغانستان میں ایک جوش و ولولہ پیدا ہوا کہ غالبا امریکا افغان طالبان کے براہ راست مذاکرات کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرنے کو تیار ہو گیا ہے لیکن جنرل نکلسن اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے اس خبر کی صداقت کو مسترد کر دیا۔

اس صورتحال میں ڈی ڈبلیو نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا اور دریافت کیا کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر غور کر رہی ہے تو جواب میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’افغانستان میں قیام امن کی خاطر امریکی حکومت تمام امکانات کا جائزہ لے رہی ہے اور اس تناظر میں افغان حکومت کے ساتھ قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘ مزید یہ کہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کے فیصلے کی خاطر مذاکرات کابل حکومت اور طالبان کے مابین ہی ہوں گے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ڈی ڈبلیو کو مزید بتایا کہ امریکا، افغان عوام یا حکومت کا متبادل نہیں ہے اور اس لیے پائیدار مذاکرات کے لیے طالبان کو افغان حکومت سے بھی رجوع کرنا ہو گا۔ مزید یہ کہ ایسے کسی بھی مذاکراتی عمل کی قیادت کابل حکومت کے ذمے ہو گی۔

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران سینیئر امریکی اہلکار پاکستان اور افغانستان کو دورہ کر چکے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران امریکی عہدیداروں نے طالبان اور امریکا کے مابین براہ راست مذاکرات کے لیے ابتدائی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

دوسری طرف واشنگٹن میں سفارتی امور پر نگاہ رکھنے والے مبصرین نے کہا ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور جنرل نکلسن کے بیانات ایسے امکان کو مکمل رد نہیں کرتے کہ سترہ سالہ افغان جنگ کو ختم کرنے کی خاطر امریکا طالبان سے براہ راست مذاکرات کی کوشش نہیں کر رہا۔

انور اقبال، واشنگٹن (ع ب / ع ت) 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید