1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپ میں زرعی اصلاحات

Helle Jeppesen / افضال حسین21 نومبر 2008

: یورپ میں زراعت کے شعبے میں نئی اصلاحات کے حوالے سے ہیلے ییپیزن کا لکھا تبصرہ

https://p.dw.com/p/FzZC
یورپ اور امریکہ نے اپنی زرعی منڈیوں کو تحفظ دینے کے لئے نے تیسری دنیا کی زرعی پیداوار پربھاری درآمدی محصولات عائد کر رکھے ہیں۔تصویر: AP

گائے ایک قیمتی جانور ہے۔ بھارت میں اسے ایک متبرک جانور کی حیثیت حاصل ہے۔ بہت سے افریقی ملکوں میں اسے ایک قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے، جسے روایتی طور پر دلہن کی قیمت کے بدلے میں ادا کیا جاتا ہے۔ لیکن یورپ میں گائے اس قدر مہنگی ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ یورپی یونین کا ہر ٹیکس دہندہ یورپ میں پائی جانے والی ہر گائے کے لئے ہر روزدو اعشاریہ پانچ یورو ادا کرتا ہے۔ جبکہ اسی

کرہ ارض پر بسنے والے ایک اعشاریہ دو ارب انسانوں کو اپنی زندگی کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے روزانہ اس قدر رقم دستیاب نہیں۔ ان کی یومیہ آمدنی ایک یورو سے بھی کم ہے۔

ان دونوں باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اور وہ اس طرح کہ یورپ اپنے کسانوں کو جو سرکاری مدد فراہم کرتا ہے، وہ رقم نہ صرف ٹیکس دہندگان کی جیب سے جاتی ہے بلکہ تیسری دنیا کی زرعی منڈی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یورپیوں کی طرح امریکہ بھی عالمگیریت اور’’آزاد منڈی‘‘ کا راگ الاپتا رہتا ہے۔ ابھی ایک ہفتہ قبل واشنگٹن کی عالمی مالیاتی سربراہ کانفرس میں بتایا گیا کہ 2005 میں صرف امریکہ میں کپاس اگانے والے کسانوں کو 4,2 ارب ڈالر کی سرکاری امداد مہیا کی گئی۔ تا کہ عالمی منڈی میں وہ سستی کپاس فروخت کر سکیں۔ جبکہ دوسری جانب گذشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً 150000 بھارتی کسانوں نے،جن میں عورتوں کی تعداد زیادہ تھی، خود کشی کر لی۔ ان میں زیادہ تر کپاس کاشت کرنے والے کسان تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو بیج، کھاد، اور کیڑے مار دوائیاں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ خود کشی کرنے والوں کی اکثریت نے چوہے مار دوائیاں کھا کرایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دی۔

یورپ اور امریکہ نے اپنی زرعی منڈیوں کو تحفظ دینے کے لئے نے تیسری دنیا کی زرعی پیداوار پربھاری درآمدی محصولات عائد کر رکھے ہیں۔

اب اگر برسلز میں یورپی وزراء زرعی شعبے میں سرکاری مالی اعانت کے نظام میں جس طرح کی اصلاحات لانے پررضامند ہو گے ہیں اس کو ایک اسکینڈل کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ان اصلاحات کے باوجود ایک یورپی گائے، تیسری دنیا کی کسی انسانی زندگی سے 2,5 گنا زیادہ قیمت رکھتی ہے۔