1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیا بھارت و امریکا کی قربت پاکستان کے لیے خطرہ ہے؟

عبدالستار، اسلام آباد
28 مارچ 2017

پاکستان نے ایک بار پھر امریکا و بھارت کے درمیان لاجسٹک تعاون کے شعبے میں ہونے والے معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/2a98v
Indien Barack Obama in Neu Delhi 25.01.2015
پچیس جنوری 2015ء کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق امریکی صدر باراک اوباما کے درمیان ملاقات کا ایک منظرتصویر: Reuters/J. Bourg

اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ اس لاجسٹک معاہدے کے ذریعے بھارت و امریکا نے بحرِ ہند میں اپنے لیے پہلے ہی سے جگہ بنا لی ہے۔ انہوں نے کہا بھارت کو سیاسی، معاشی اور عسکری اقدامات کے ذریعے چین کا مدِ مقابل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں کئی تجزیہ نگار جنرل ناصر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ دفاعی امور کے ماہرجنرل امجد شعیب نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’بھارت و امریکا کے درمیان ہونے والے اس معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں کیونکہ اس معاہدے کے تحت بھارت و امریکا ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کر سکتے ہیں۔ تو اگر پاکستان کے ساتھ نئی دہلی کی کوئی کشیدگی ہوتی ہے تو اس کے پاس یہ آپشن ہو گا کہ وہ بگرام ایئربیس یا ڈیگو گارشیا کا ایئربیس ہمارے خلاف استعمال کر سکے۔ اس معاہدے کے علاوہ اور بھی معاہدے ان دونوں ممالک کے درمیان ہوئے ہیں۔ تو اس معاہدے کی بدولت بھارت امریکی فوجی اڈے پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتا ہے جب کہ امریکا چین سے کشیدگی کی صورت میں بھارتی فوجی اڈے چین کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ یہ صورتِ حال یقیناً ہمارے لیے پریشان کن ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بھارت بحر ہند کو جوہری کشیدگی کی طرف دھکیل رہا ہے:’’پہلے بھارت نے زمینی اور فضائی تجربے کیے، جن کا ہمیں جواب دینا پڑا اور اب بھارت نے بحرِ ہند میں سب میرین لگا دی ہیں اور نیوکلیئر میزائل فائر کیے ہیں، جن کا پاکستان کو جواب دینا پڑا۔ بحرہند اہم بحری تجارتی راستہ ہے، جہاں چین سمیت کئی ممالک کے تجارتی مفادات ہیں۔ اگر ایسی صورتِ حال رہی تو چین بھی اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھا سکتا ہے، جس کے بعد امریکا یا دوسرے ممالک بھی اس کشیدگی میں کود پڑیں گے۔ ان سارے خدشات کے پیشِ نظر ہی پاکستان نے یہ تجویز دی تھی کہ بحرِ ہند کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کیا جائے لیکن بھارت نے اس تجویز کا خیر مقدم نہیں کیا۔‘‘

Insel Atoll Diego Garcia
بحر ہند کا جزیرہ ڈیگو گارشیا، جسے پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی کے بقول بھارت پاکستان کے ساتھ کسی کشیدگی کی صورت میں استعمال کر سکتا ہےتصویر: NASA Johnson Space Center/Image Science & Analysis Laboratory

لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بحرِ ہند میں امریکی و بھارتی موجودگی سے پاکستان کو زیادہ خطرہ نہیں ہے۔ اس موجودگی کا اصل نشانہ چین ہے اور پاکستان بیجنگ کی وجہ سے اس خطرے کے حوالے سے بات کر رہا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ادارہ برائے عالمی امن و استحکام سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’امریکا نے ایک معاہدے میں بھارت، جاپان اور ایشیا پیسیفک کے دوسرے ممالک کو شامل کیا ہے۔ چین کی ساؤتھ چائنا سی کے حوالے سے خطے کے ممالک اور واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی چل رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر ساؤتھ چائنا سی کے مسئلے پر امریکا و چین کی کشیدگی بڑھتی ہے ، تو چین کو امریکا و بھارت کی بحرِ ہند میں بھرپور موجودگی کی وجہ سے سکیورٹی خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ون بیلٹ ون روڈ کے کئی ممالک بھی بحرہند کے ساتھ ہی ہیں اور چین یہاں خطیر رقم کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چین کی تجارت کا ایک بڑا حصہ بحرِ ہند کے ذریعے ہوتا ہے، جس میں مزید اضافہ ہوگا، تو اس جگہ امریکا و بھارت کی بھر پور موجودگی چین کے لیے خطرہ بنے گی اور چونکہ پاکستان بیجنگ کا اتحادی ہے ، اس لیے وہ خطے کے دوسرے ممالک اور بلاکس کو خصوصاً آسیان کو سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ میں حصے دار بننے کو کہہ رہا ہے۔ میرے خیال میں اس موجودگی سے پاکستان کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بھارت بحر ہند کی اصطلاح استعمال کر کے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اس پر اس کا سب سے زیادہ حق ہے جب کہ بحر ہند اس خطے سے شروع ہوکر افریقہ و ایشیا پیسیفک تک جاتا ہے۔ تو پاکستان اسی لیے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اس کو ایشیا و افریقہ کا اوشن قرار دیا جائے۔ بھارت سے تعلقات کو بڑھانا امریکا کی Pivot to Asia Policyکا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں بھارت آسیان، امریکا اور جاپان کے ساتھ مل کر چین کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔اس ساری صورتِ حال میں پاکستان کو چین کے اتحادی ہونے کے ناطے اس کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔‘‘