1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کوسٹا ریکا : پرمسرت اور شاداب ملک

رپورٹ:عابد حسین ، ادارت : امجد علی6 جولائی 2009

عالمی سطح پر کئی تنظیمیں مختلف انداز کے سروے کرکے اُن کے اعداد و شمار کی روشنی میں رپورٹس کا اجرا کرتی ہیں۔ ایک برطانوی تنظیم کی سروے رپورٹ میں کو سٹا ریکا کو پرمسرت اور شاداب زندگی کے حوالے سے پہلا مقام دیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/IhIB
کوسٹا ریکا کے ایک دیہاتیتصویر: AP

برطانیہ کی غیر سرکاری تنظیم نیو اکنامکس فاؤنڈیشن کے عالمی سروے کے مطابق وسطی امریکہ کا ملک کوسٹا ریکا دنیا میں پرمسرت زندگی گزارنے کے حوالے سےسرِ فہرست ہے۔ اِس کے علاوہ یہ ملک انتہائی ماحول دوست بھی ہے۔

نیو اکنامکس فاؤنڈیشن نے دنیا کے ایک سو تینتالیس ملکوں کے حوالے سے سروے مکمل کرنے کے بعد ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ ممالک دنیا کی ننانوے فی صد آبادی کا گھر ہیں۔ سروے میں یہ طے کرنا مقصود تھا کہ لوگوں کی طبعی عمر کتنی ہے اور لوگ اپنے رہن سہن کےماحول سے کتنے مطمئن ہیں اور اِس اطمینان سے وہ کتنی مسرت حاصل کرتے ہیں۔ اِس معیار پر پرکھتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم نے کوسٹا ریکا کو سب سے اونچا مقام تفویض کیا ہے۔

نیو اکنامکس فاؤنڈیشن نے اپنی سروے رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ وسطی امریکہ کا یہ ملک انتہائی سرسبز و شاداب ہے۔ اِس ماحولیاتی شادابی کی وجہ سے لوگ پُر مسرت زندگی کا لُطف اٹھانے میں پیش پیش ہیں۔

Costa Rica
کوسٹا ریکا کےجنگلوں کے بیچوں بیچ سیاحوں کے لئے ریل کا سفر ایک جداگانہ حثیت کا حامل ہے۔تصویر: AP

کوسٹا ریکا کے بعد دوسری پوزیشن ڈومینیک جمہوریہ کو حاصل ہوئی ہے۔ اِس معیار کے تناظر میں عالمی درجہ بندی میں پہلے دس ملکوں میں سے نو کا تعلُق لاطینی امریکہ سے ہے۔ اِس فہرست میں آسٹریلیا کو تیسری پوزیشن دی گئی ہے۔

Vanuatu dichtbewachsener Dschungel
بحر الکاہل میں جزائر پرمشتمل ملک وانواتُو کا جنگلتصویر: DW/ Lydia Leipert

تنظیم نیو اکنامکس فاؤنڈیشن کے سروے میں مقامی لوگوں کی رائے اور اعداد و شمار کی روشنی میں مرتب کی جانے والی رپورٹ میں اہم بڑے اقتصادی ملکوں کی کارکردگی اور وہاں کے لوگوں کی زندگی بظاہرمتاثر کُن نہیں بتائی گئی ہے۔ یورپی ملک برطانیہ چوہترویں پوزیشن کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ امریکہ کو ایک سو چودہواں مقام حاصل ہو سکا۔

کوسٹا ریکا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہاں اَوسط طبعی عمر اٹھہتر سال یا اُس سے زیادہ ہے اور پچاسی فی صد عوام نے اپنے ملک میں زندگی گزارنے کو انتہائی پرلُطف تجربہ اور اپنے ملک کے ماحول اور آب و ہوا کو انتہائی اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ وہاں کے ماحول میں سبھی حیات یعنی انسانوں کے علاوہ نباتات اور چرِند پرِند کو بھی معدوم ہونے کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہی وہ اہم نکتہ ہے کہ جس کی بناء پر ایک چھوٹے سے ملک کی شاداب قوم کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

سن دو ہزار چھ میں بھی تنظیم نیو اکنامکس فاؤنڈیشن کی جانب سے ایسا ہی سروے جاری کیا گیا تھا۔ تب اُس میں کوسٹا ریکا کو دوسری پوزیشن حاصل ہوئی تھی۔ اُس وقت پہلے مقام پر بحر الکاہل کے جزیروں پر آباد ملک جمہوریہ وانُو اتُو (Vanuatu ) آیا تھا۔

سماجی علوم کی بین الاقوامی ماہر آندریا فون سیکا کا خیال ہے کہ کوسٹا ریکا کی حکُومتیں اپنے مُلک کی عوام کو خوش رکھنے کا سامان مہیا کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ کوسٹا ریکا ایک پُرامن ملک ہے اور اِسی باعث اِس کے پاس کوئی باقاعدہ اور مُنظم فوج نہیں ہے۔ آندریا فون سیکا کا مزید کہنا ہے کہ وسطی امریکہ کے ملک نے اپنی سرحدوں کے اندر ایکو لاجیکل نظام کو محفوظ رکھنے کا کامیاب عمل شروع کر رکھا ہے اور اِس مناسبت سے وہاں کا قومی سلوگن ہے: خالص زندگی۔

ماہرِ سماجیات آندریا فون سیکا کایہ ماننا ہے کہ پر مسرت زندگی کے لئے کسی ملک کا ماحول دوست ہونا اور بڑی طبعی عمر کی سطح یقیناً کوئی سکہ بند معیار نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ تنظیم نیو اکنامکس فاؤنڈیشن یا کوئی اور ادارہ کچھ اور معیارات کی بنیاد پر عالمی درجہ بندی کرے تو کوسٹا ریکا کو شاید موجودہ مقام حاصل نہ ہو سکے۔ اُن کے خیال میں سماجی خیال آفرینی بھی نشاطِ حیات کے لئے انتہائی اہم ہوتی ہے۔