1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاک امریکہ تعلقات میں کچھاؤ کے پاک چین ’دوستی‘ پر اثرات

15 مئی 2011

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات میں پائے جانے والے کچھاؤ اور افغانستان سے امریکہ کے آئندہ انخلاء کے نتیجے میں پاکستان کے چین کے ساتھ روایتی طور پر مضبوط تعلقات ممکنہ طور پر مزید مضبوط ہو جائیں گے۔

https://p.dw.com/p/11GNV
پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی آئندہ ہفتے چین کا دورہ کریں گےتصویر: Abdul Sabooh

خبر ایجنسی اے ایف پی نے بیجنگ سے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ بہت سے سکیورٹی ماہرین کی رائے میں موجودہ حالات میں اسلام آباد اور بیجنگ ایک دوسرے کے مزید قریب آ گئے ہیں اور آتے جائیں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی آئندہ ہفتے چین کا جو دورہ کریں گے، اس دوران چینی رہنما گزشتہ چھ عشروں سے بھی زائد عرصے سے جاری دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے ان رشتوں کی خاص طور پر تعریف کریں گے، جن پر ان دونوں ہمسایہ ملکوں کو فخر ہے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی تعریف اور اسلام آباد پر اعتماد کا اظہار ان دنوں پاکستان پر مغربی دنیا کی طرف سے کی جانے والی شدید تنقید کا بالکل متضاد ہو گا۔ یعنی مغربی دنیا اس وقت اگر پاکستان پر انگلیاں اٹھا رہی ہے تو چین پاکستان کو گلے لگا رہا ہو گا۔ یہی بات بیجنگ اور اسلام آباد کے قریبی باہمی تعلقات کا نیا پہلو ہے، جس میں پاکستان کے واشنگٹن کے ساتھ روابط میں حالیہ تناؤ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

Dossierbild Tod Bin Laden Bild 2
بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیںتصویر: AP Photo/MBC via APTN

بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق چین آج بھی پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ آئندہ ہفتے جمعرات سے وزیراعظم گیلانی اپنا چین کا جو سرکاری دورہ شروع کریں گے، اس کے نتیجے میں اسلام آباد پر واشنگٹن اور دیگر مغربی دارالحکومتوں سے پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے اور اس کا رخ موڑنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔

پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل اور سیاسی تجزیہ کار طلعت مسعود کے مطابق چین وہ واحد ملک ہے، جس نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کمانڈوز کے تارکی میں کیے گئے آپریشن کے بعد سے اب تک پاکستان کے لیے ہمدردانہ موقف کا اظہار کیا ہے۔ طلعت مسعود کے بقول، یوسف رضا گیلانی کے اس دورے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان پر مغربی دباؤ کا توڑ نکالا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جائے کہ ‘پاکستان کے پاس کھیلنے کے لیے ابھی کچھ کارڈز باقی ہیں۔‘

اس حوالے سے بیجنگ میں وزارت خارجہ کی ترجمان کا بن لادن کی ہلاکت کے چند روز بعد دیا جانے والا یہ بیان بہت اہم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کوششوں میں پاکستان سب سے اگلے محاذ پر لڑنے والا ملک ہے۔

بیجنگ میں چین کی طرف سے پاکستان کے لیے اعتماد کا یہ اظہار پاکستان میں بھی محسوس کیا گیا ہے۔ حکومت کے علاوہ اپوزیشن کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کہا کہ ملکی تاریخ کے اس اہم موڑ پر وہ دیکھ رہے ہیں کہ چین کے سوا کوئی بھی دوسرا ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔

کئی پاکستانی اور غیر ملکی ماہرین کی رائے میں ان حالات میں پاکستان کے لیے اس بات کا پر کشش ہونا بالکل معمول کی سوچ ہو گی کہ اسلام آباد امریکہ سے کچھ دوری اختیار کرتے ہوئے چین کے ساتھ مزید قربت کا سوچے۔ اسی بات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ کافی عرصے سے بھارت کے بہت قریب آ چکا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ قربت اور بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت کو سیاسی توازن کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چین پاکستان کو ہتھیار فراہم کرنے والا ایک اہم ملک ہے اور اس نے ایٹمی توانائی کے شعبے میں بھی اسلام آباد کی ہمیشہ بھر پور مدد کی ہے۔

فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی نے اپنے تجزیے میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر پاکستان پر امریکہ اور بھارت کی وجہ سے دباؤ جاری رہا تو پاکستان کے لیے یہ بات اور اہم ہو گی کہ ‘اسلام آباد اکیلا نہیں ہے۔ چین ہمارے ساتھ ہے۔ تاہم حالیہ کچھ عرصے میں چین اور بھارت کے تعلقات بھی خاصے بہتر ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مثالی بن چکا ہے۔ دوسری جانب چین کو اپنے جنوبی علاقوں میں جس اسلامی شدت پسندی کا سامنا ہے، چین اس کے تانے بانے طالبان سے جوڑتا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت:شامل شمس

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں