1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تاريخ

پاکستان کی ہر عورت بے نظیر کی طرح ہے، بلاول بھٹو زرداری

بینش جاوید
22 دسمبر 2016

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر کسی کی جان لینا سنگین تشدد ہے۔ اگر کسی نے پاکستانی خاتون کا بال بھی بیکا کرنے کی کوشش کی تو اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔

https://p.dw.com/p/2Uj29
Pakistan Bilawal Bhutto Zardari
تصویر: picture-alliance/dpa

 

پاکستانی پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے یہ گفتگو کراچی آرٹس کونسل میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم این اے نفیسہ شاہ کی تحریر کردہ کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع  پر کی۔ نفیسہ شاہ کی کتاب ’آنر ان ماسکڈ‘ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کر دیے جانے کے موضوع پر تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کو شائع کرنے والی کمپنی آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی ویب سائٹ پر اس کتاب کے بارے میں لکھا گیا ہے،’’ نفیسہ شاہ نے بطور صحافی اور محقق کئی برس کام کیا ہے۔ اس کتاب میں وہ بیان کرتی ہیں کہ ریاست کا عدالتی نظام اور ریاست کا متوازی عدالتی نظام صوبے سندھ میں ’کارو کاری‘ جیسی فرسودہ روایت کو جگہ فراہم کرتے ہیں۔‘‘

Screenshot Twitter #HonourUnmasked
تصویر: Twitter

اس کتاب کی تقریب رونمائی کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر شائع کیا گیا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کرتے رہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا،’’ میری نسل کو اس خطرناک معاملے کا حل نکالنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مدد کے باوجود ان کی والدہ کے قتل کے حوالے سے ان کے خاندان کو انصاف نہیں مل سکا۔ بلاول بھٹو نے کہا،’’ میں وعدہ کرتا ہوں کہ پاکستان کا ہر بچہ اور ہر عورت میرے لیے اسی طرح خاص ہے جیسے کہ بے نظیر بھٹو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سیاست اور پارٹی کے منشور میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہماری ماؤں اور بہنوں کو تحفظ حاصل ہو۔

اس موقع پر نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہ کتاب دس برس سے زائد عرصے تک  حاصل کیے گئے تجربات اور ان کے مشاہدات کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی میں چار خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان میں بے نظیر بھٹو، نیوز لائن جریدے کی ایڈیٹر رضیہ بھٹی، ان کی استاد ہیلن کالوے اور ان کی والدہ حسن افروز شامل ہیں۔

Screenshot Twitter #HonourUnmasked
تصویر: Twitter

واضح رہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام ہر قتل کو ایک سماجی مسئلے کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان میں کم از کم ایک ہزار خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر قاتل سزا سے بچ جاتے ہیں۔ اس برس پاکستانی پارلیمنٹ نے ’غیرت کے نام‘ پر قتل کے حوالے سے پیش کردہ مسودہٴ قانون کی منظوری دے دی تھی۔ اب غیرت کے نام پر قتل کرنے والے شخص کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا ہو سکے گی۔ تاہم سماجی ماہرین کی رائے میں جب تک قانون پر سختی سے عمل در آمد کو یقینی نہیں بنایا جائے گا اور معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی تب تک اس ظلم اور بربریت کا خاتمہ ممکن نہ ہوگا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں