1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں ڈرون حملے، 22 عسکریت پسند ہلاک

6 جون 2011

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مبینہ امریکی جاسوس طیاروں کے تین حملوں میں مرنے والوں کی تعداد22 ہو گئی ہے، جن میں سات غیر ملکی بھی بتائے جاتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/11VMw
تصویر: dapd

مقامی حکام کے مطابق پہلا ڈرون حملہ ایک مکان پر کیا گیا، جس میں تین افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔ دوسرا حملہ وانا سے چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شاہ عالم کے مقام پر ایک مدرسے پر کیا گیا۔ اس حملے میں سات غیر ملکیوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق تیسرے حملے میں جنوبی اور شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے شوال میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

Pakistan Proteste
پاکستانی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ڈرون حملوں کے خلاف اکثر احتجاج ہوتے رہتے ہیںتصویر: AP

ان حملوں کو مارچ کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ہونے والے بڑے حملے قراردیا جا رہا ہے اس سے قبل پولیٹیکل حکام نے جمعے کے روز ہونے والے ڈرون حملے میں انتہائی مطلوب الیاس کشمیری اپنے کئی ساتھیوں سمیت کی ہلاکت کے بارے تصدیق کی تھی۔ دوسری جانب پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف حکومت اور امریکہ کے خلاف رد عمل میں اضافہ ہورہا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے پاکستانی حکومت کی رضا مندی کے ساتھ کیے جارہے ہیں۔ اگرچہ کچھ عرصہ قبل منتخب اسمبلی نے اس سلسلے میں ایک متفقہ قراداد کے ذریعے امریکہ سے ڈرون حملے بند کرانے کا بھی مطالبہ کیا تھا لیکن حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا حکومت بھی ان حملوں کی نہ صرف مذمت کرتی آرہی ہے بلکہ اسے پاکستان کی خود مختاری اور آزادی میں مداخلت قرار دیتی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیراطلاعات میاں افتخار حسین سے جب ڈوئچے ویلے نے اس سلسلے میں بات کی تو ان کا کہنا تھا” اصولی طور پر ان کی حکومت ڈورن حملوں کےخلاف ہے۔ یہ ہماری خودمختاری کے خلاف ہے ہمارا موقف بڑا واضح ہے ہم چاہتے ہیں کہ ڈرون حملے نہیں ہونے چاہئے اور دہشت گردی ختم ہونی چاہئے۔ جب ان حملوں میں بے گناہ لوگ مرتے ہیں تو دہشت گردوں کے ساتھ لوگوں کی ہمدردی میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ ڈرون حملے کرنے والوں کےخلاف نفر ت پیدا ہوتی ہے۔ جب ڈرون حملوں میں دہشت گرد مرتے ہیں توحملے کرنے والوں کے پاس اس کا جواز بھی پیدا ہوتا ہے لہذا اس جواز کوختم کرنے کے لیے ہمیں خود دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہو گا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈرون حملے لازمی ہے تو امریکہ تمام ٹیکنالوجی پاکستان کے حوالے کردے اورپاکستان خود ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرے۔ اسی طرح دونوں ممالک کا باہمی اعتمادبھی بحال ہو گا اوردہشت گردی کا بھی خاتمہ بھی ہوسکتا ہے۔ میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ ڈرون حملے بھی نہ ہو اور دہشت گردی بھی ختم ہوں یہ دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں ہوسکتیں۔

Modell einer Talarion Drohne des Konzern EADS
امریکہ تمام ٹیکنالوجی پاکستان کے حوالے کردے ، میاں افتخارتصویر: Tangopaso/sa

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت سمیت پاکستان کے اکثریتی سیاسی جماعتوں کا ڈرون حملوں کے بارے میں مبہم موقف ایک طرح ان حملوں کی تائید ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکہ نے ڈرون حملوں کے ذریعے کئی اہداف حاصل کئے ہیں، جن میں کئی غیر ملکی عسکریت پسندوں سمیت جمعے کے روز جنوبی وزیرستان کے تحصیل وانا میں کیے گئے حملے میں الیاس کشمیری اور ان کے کئی کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس سے قبل تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود بھی اسی طرح کے ایک حملے میں مارے گئے تھے۔

رپورٹ: فریداللہ خان پشاور

ادارت: عدنان اسحاق

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں