1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سوچی روہنگیا مسلمانوں کی ’نسل کشی‘ رکوائیں، نجیب رزاق

عاطف بلوچ، روئٹرز
4 دسمبر 2016

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر شدید تنقید کرتے ہوئے نوبل امن انعام یافتہ سیاست دان آنگ سان سوچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ خون ریزی بند کروائیں۔

https://p.dw.com/p/2ThvI
Demonstration  Premierminister  Najib Tun Razak Kuala Lumpur
تصویر: picture alliance/zumapress

نجیب رزاق نے میانمار میں روہنگیا نسل افراد کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے آن سانگ سوچی کو اس کی روک تھام نہ کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہفتے کے روز دارالحکومت کوالالمپور میں ہزاروں افراد کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے نجیب رزاق نے کہا، ’’آنگ سان سوچی کو نوبل انعام دینے کا کیا فائدہ؟ اگر وہ اپنے ملک میں حکمران ہونے کے باوجود روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی نہیں رکوا سکتیں۔‘‘

نجیب رزاق کا اپنے خطاب میں کہا تھا کہ میانمار کی حکومت ملک کے مغربی حصے میں جاری یہ خون ریز کریک ڈاؤن ہر صورت میں روکے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے سے فرار ہونے والے ہر شخص کی داستان ریپ، تشدد اور قتل سے جڑی ہوئی ہے۔

’’ہم آنگ سان سوچی کو کہنا چاہتے ہیں کہ حد ہو چکی۔ ہمیں ہر صورت میں مسلمانوں اور اسلام کا تحفظ یقینی بنانا ہے اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس موقع پر نجیب رزاق کے مجمعے میں شریک افراد ’اللہ و اکبر‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

Demonstration Malaysia Muslime Myanmar  Rohingya
اس اجتماع میں لوگ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کر رہے تھےتصویر: Getty Images/M.Vastyayana

نجیب رزاق نے اس موقع پر کہا کہ وہ مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قتل عام کو رکوانے کے لیے حرکت میں آئے۔ ’’برائے مہربانی کچھ کرو۔ اقوام متحدہ! تم بھی کچھ کرو۔ دنیا آرام سے بیٹھ کر یہ نسل کشی نہیں دیکھ سکتی۔‘‘

واضح رہے کہ حالیہ کچھ ہفتوں میں میانمار کی ریاست راکھین سے دس ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان افراد کی ہجرت کی وجہ راکھین ریاست کے شمال میں جاری حکومتی کریک ڈاؤن ہے۔

بنگلہ دیش پہنچنے والے ان روہنگیا افراد کا کہنا ہے کہ انہیں میانمار کی سرکاری فورسز کی جانب سے اجتماعی جنسی زیادتی، تشدد اور قتل عام کا نشانہ بنایا گیا۔

میانمار ان الزامات کو مسترد کرتا ہے، تاہم حکومت نے غیرملکی صحافیوں اور آزاد تفتیش کاروں کی شمالی راکھین میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے اس معاملے میں میانمار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل کوالالمپور حکومت نے میانمار کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج بھی کیا تھا، جب کہ قریب پانچ سو افراد نے کوالالمپور میں میانمار کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ بھی کیا۔