1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

میانمار ميں کريک ڈاؤن جاری، چار سو روہنگيا ہلاک

عاطف توقیر روئٹرز
1 ستمبر 2017

میانمار کی شمال مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری مبينہ ریاستی کریک ڈاؤن میں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم چار سو افراد مارے جا چکے ہیں۔

https://p.dw.com/p/2jBuS
Bangladesh, Flüchtlingskonflikt in Myanmar
تصویر: Getty Images/R.Asad

تازہ اعداد و شمار کے اعتبار سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف یہ کریک ڈاؤن ملکی تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔ ميانمار میں عسکریت پسند روہنگيا مسلمانوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے ایک ہفتے کے عرصے میں قریب 38 ہزار افراد سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔

روہنگیا عسکریت پسندوں کی جانب سے پولیس چوکیوں اور ایک فوجی اڈے پر حملوں کے بعد پچھلے ہفتے جمعے کے روز اس کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے بعد متعدد علاقوں میں جھڑپوں کی بھی اطلاعات تواتر سے آ رہی ہیں۔

Rohingya in Myanmar und Bangladesch
ان پرتشدد واقعات سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیںتصویر: picture-alliance/dpa/M.Alam

بنگلہ دیش کے ایک حکومتی عہدیدار کے مطابق 31 اگست تک سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہونے والے روہنگیا افراد کی تعداد 38 ہزار رہی۔

میانمار کی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز ’شدت پسند دہشت گردوں‘ کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اور عام شہریوں کو ’تحفظ‘ فراہم کر رہی ہے۔ تاہم بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا افراد کے مطابق سکیورٹی فورسز روہنگیا افراد کے قتل عام اور جنسی زیادتیوں کے واقعات میں ملوث ہیں اور انہیں مجبور کر رہی ہیں کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔

میانمار میں بسنے والے گیارہ لاکھ روہنگیا باشندے نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں، جن پر مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے مبصرین شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کے ان واقعات اور روہنگیا افراد کے خلاف سکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن رکوانے میں ناکام رہی ہیں۔

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں اور کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تین سو ستر عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اس دوران سکیورٹی فورسز کے 13 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو حکومتی عہدیدار اور 14 عام شہری بھی ان پرتشدد واقعات کی نذر ہو چکے ہیں۔