1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مہاجرت کا جھانسا دے کر جسم فروشی پر مجبور کر دیا

14 نومبر 2016

آسٹریائی پولیس کے مطابق انسانوں کے اسمگلروں نے ایک سو پچاس چینی خواتین کو آسٹریا میں منتقل کیا، جہاں انہیں جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔ کچھ خواتین نے یورپ پہنچنے کی خاطر ان اسمگلروں کو فی کس دس ہزار یورو بھی ادا کیے تھے۔

https://p.dw.com/p/2ShI5
Deutschland Österreich Grenze Bayern Flüchtlinge
تصویر: Getty Images/AFP/C. Stache

خبررساں ادارے ڈی پی اے نے آسٹریائی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرائم پیشہ منظم اسمگلروں نے ان چینی خواتین کو جھانسا دیا تھا کہ جب وہ آسٹریا پہنچ جائیں گی تو انہیں میساج سینٹرز میں بطور آیا ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔

مہاجر عورتیں، بہتر مستقبل کا خواب سے جنسی غلامی تک

مہاجر عورتوں اور لڑکیوں کو تشدد کا سامنا، ایمنسٹی انٹرنیشنل
فرانس میں لاوارث مہاجر بچے، ’جنسی زیادتی، استحصال کے خطرات‘

لوئر آسٹریئن پولیس اتھارٹی کی طرف سے چودہ نومبر بروز پیر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ گرفتار شدگان کا تعلق چین سے ہی بتایا گیا ہے۔

ڈی پی اے نے پولیس کے حوالے سے مزید بتایا کہ جب یہ خواتین ویانا ایئر پورٹ پہنچیں تو اسمگلر ان کا سامان اور سفری دستاویزات لے کر غائب ہو گئے، جہاں اس گینگ کے دیگر چینی ارکان نے ان خواتین کو مدد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ انہیں رہائش بھی فراہم کریں گے۔

بتایا گیا ہے کہ ان خواتین کو ہوٹل پہنچایا گیا تو انہیں معلوم ہوا کہ انہیں خود کو مہاجر کے طور پر اندارج کرانا ہو گا۔ بعد ازاں ان خواتین کو ویانا کے قحبہ خانوں اور دیگر مقامات پر جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا رہا۔

Slowenien Parlament stimmt Einsatz der Armee an der Grenze zu
دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کے شدید ترین بحران کا سامنا ہےتصویر: Reuters/L. Foeger

پولیس نے بتایا ہے کہ اس گینگ نے ان خواتین کو مزید ایک ایک ہزار یورو ادا کرنے کو کہا تاکہ ان کی پناہ کی درخواستوں پر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے اور ان کا باقاعدہ طبی معائنہ کرایا جا سکے۔ یہ امر اہم ہے کہ آسٹریا میں جسم فروش خواتین کے پاس صحت مند ہونے کا سرٹیفیکٹ ہونا ضروری ہوتا ہے۔

ویانا پولیس کے مطابق اس گینگ کے بارے میں اس محکمے نے پتا لگایا، جو جسم فروش خواتین کے بزنس کو مانیٹر کرتا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس انکشاف کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ کم ازکم چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق ان گرفتاریوں سے اس گینگ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔