1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مون سون کا رخ اب کراچی کی جانب

عاطف توقیر
31 اگست 2017

بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش میں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بننے والا مون سون کا سلسلہ اب پاکستانی بندرگاہی شہر کراچی میں شدید بارشوں کا سبب بن رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/2j7po
Pakistan Karachi Monsun Überschwemmungen
تصویر: Reuters

مقامی میڈیا پر دکھائے جانے والے مناظر میں منگل کی صبح کراچی کے کئی علاقے شدید بارشوں کے باعث زیرآب دکھائی دیے۔ پاکستانی محکمہء موسمیات کے مطابق صوبہ سندھ کے متعدد علاقوں میں بارشوں کا یہ سلسلہ اگلے تین روز تک جاری رہنے کے امکانات ہیں۔ اسی تناظر میں احتیاطی تدابیر کے طور پر متعدد اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ شدید بارشوں اور جھکڑوں کی توقع جنوب مغربی بلوچستان اور مشرقی پنجاب تک میں کی جا رہی ہے۔ محکمہء موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ مون سون کے موسم میں جنوبی ایشیائی اقوام کو شدید بارشوں کے سبب سیلابوں کا سامنا تواتر سے رہتا ہے۔ جون سے ستمبر تک جاری رہنے والا مون سون سلسلہ متعدد مقامات پر انفراسٹکچر کی تباہی اور ہلاکتوں تک کا سبب بنتا ہے۔

Pakistan Karachi Monsun Überschwemmungen
مون سون کا موسم جنوبی ایشیا میں متعدد علاقوں کے لیے ہرسال ایک تباہی کا پیغام لاتا ہےتصویر: Reuters

رواں سال مون سون میں سب سے زیادہ ہلاکتیں بھارت میں ہوئی ہیں، جہاں متعدد علاقے شدید بارشوں کی وجہ سے زیرآب ہیں۔ شدید بارشوں کی وجہ سے گزشتہ روز بھارتی تجارتی مرکز کہلانے والے شہر ممبئی میں 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ اسی تناظر میں شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بھی مفلوج ہو کر رہ گیا جب کہ ٹرینیں اور پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ ممبئی میں آج بھی اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند ہیں۔

بھارت کے محکمہء موسمیات کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ روز کی نسبت آج بدھ کے روز ممبئی میں بارش کی شدت میں کمی دیکھی گئی ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں میں صرف بوندا باندی ہی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم اگلے چند گھنٹوں میں ممبئی سمیت متعدد مقامات پر دوبارہ تیز بارش ہو سکتی ہے۔

 گزشتہ کئی سالوں کی شدید ترین بارشوں کی وجہ سے رواں برس مون سون میں بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 12 سو تک پہنچ چکی ہے، جب کہ بھارت میں سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بہار ہے، جہاں درجنوں دیہات زیرآب ہیں۔