1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انيس مزيد مہاجرين سمندر کی نذر : کب رک پائے گا يہ سلسلہ؟

عاصم سليم24 دسمبر 2015

پناہ کی تلاش ميں يورپ کا رخ کرنے والے مہاجرين کے سمندر ميں ہلاک ہونے کے تازہ ترين واقعے ميں پناہ گزينوں کی ترکی سے يونان جانے والی ايک کشتی بحيرہ ايجيئن ميں ڈوب گئی ہے، جس کے نتيجے ميں کم از کم انيس مہاجرين ہلاک ہو گئے۔

https://p.dw.com/p/1HTMe
تصویر: picture-alliance/dpa/M.Golejewsk

ترکی کی نجی خبر رساں ايجنسی ڈوگان کے مطابق بحيرہ ايجيئن ميں ڈيکيلی کے ساحل کے قريب لکڑی کی کشتی ڈوبنے کا يہ تازہ حادثہ جمعرات چوبيس دسمبر کے روز پيش آيا۔ ترک کوسٹ گارڈز نے ڈوبنے والوں کی لاشيں نکال لی ہيں، جن ميں سات بچے بھی شامل ہيں۔ ابھی بھی دو لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ يہ اطلاع ملنے کے بعد کہ مزيد پناہ گزين پانی ميں ہو سکتے ہيں، قريبی واقع ترک شہر ازمير سے ريسکيو ٹيموں کو روانہ کر ديا گيا ہے۔

کوسٹ گارڈز اکيس پناہ گزينوں کو بچانے ميں بھی کامياب رہے، جن ميں ايک سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ فوری طور پر اس حادثے کی وجہ جاننے کے ليے کوسٹ گارڈز سے رابطہ ممکن نہيں ہو سکا تاہم امکان ہے کہ کشتی گنجائش سے زيادہ افراد بھرنے اور خطرناک سمندر کے سبب ڈوبی۔ قبل ازيں بدھ کے روز بھی بحيرہ ايجيئن ميں کشتی ڈوبنے کے ايک واقعے ميں ايک درجن سے زائد مہاجرين کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہيں۔

بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے اسی ہفتے يہ انکشاف کيا تھا کہ سال رواں کے دوران مختلف سمندری و زمينی راستوں سے يورپ تک پہنچنے والوں کی تعداد ايک ملين سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس دوران تقريباً 3,700 پناہ گزين گم شدہ يا ہلاک بھی ہو چکے ہيں۔

بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق اس سال تقريباً 3,700 پناہ گزين گم شدہ يا ہلاک ہو چکے ہيں
بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق اس سال تقريباً 3,700 پناہ گزين گم شدہ يا ہلاک ہو چکے ہيںتصویر: Reuters/Y. Behrakis

يہ امر اہم ہے کہ ترکی ميں تقريباً 2.2 ملين شامی مہاجرين پناہ ليے ہوئے ہيں اور يہ لوگ ترکی سے بہتر زندگی کی تلاش ميں يورپ کا رخ کرتے ہيں۔ اٹھائيس رکنی يورپی يونين، تارکين وطن کی آمد کے اس سلسلے کو محدود کرنے يا اسے روکنے کے ليے کوششيں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے ميں نومبر ميں انقرہ حکومت اور برسلز کے مابين ايک معاہدہ طے پايا تھا جس کے تحت ترکی کو سياسی مراعات کے علاوہ اپنے ہاں موجود مہاجرين کی بہتری کے ليے 3.2 بلين يورو بھی ديے جائيں گے۔ اس کے بدلے انقرہ حکام انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے يورپ کی طرف پناہ گزينوں کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کريں گے۔

حاليہ دنوں ميں ترک حکام کی کارروائيوں اور موسمی حالات ميں تبديلی کے سبب يورپ پہنچنے والوں کی تعداد ميں کمی رونما ہوئی ہے۔ ترک ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ رپورٹوں کے مطابق انسانوں کے اسمگلروں نے حاليہ پيش رفت اور مانگ ميں کمی کے تناظر ميں غير قانونی طور پر يورپ پہنچانے کے ليے فيس کم کر دی ہے اور اب وہ فی مہاجر بارہ سو کی بجائے پانچ سو ڈالر لے رہے ہيں۔