1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شامی ٹینک حماہ میں داخل ہو گئے، بیسیوں افراد ہلاک

31 جولائی 2011

شامی فوج آج اتوار کو ٹینکوں سے گولہ باری اور مشین گنوں سے فائرنگ کرتی ہوئی شمال مغربی شہر حماہ میں داخل ہو گئی، جس دوران اپوزیشن کارکنوں کے خلاف آپریشن میں ہلاکتوں کی تعداد 95 تک بتائی جا رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/1271A
حماہ میں شامی مظاہرین اپنے ہموطنوں پر گولہ باری سے انکار کرنے والے فوجیوں کو گلے لگاتے ہوئےتصویر: picture alliance/abaca

عمان سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق شامی فوج نے یہ کارروائی صدر بشار الاسد کے خلاف کئی مہینوں سے جاری اپوزیشن کی عوامی تحریک کوکچلنے کے لیے کی ہے۔ اس تحریک میں سات لاکھ کی آبادی والے شہر حماہ کو بشار الاسد کے خلاف احتجاج کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے اور دمشق حکومت کے ٹینک بردار فوجی دستوں نے اس شہر کا گزشتہ قریب ایک مہینے سے محاصرہ کر رکھا تھا۔

حماہ میں مقامی باشندوں اور عینی شاہدین نے بتایا کہ آج اس شہر میں داخل ہوتے ہی سرکاری فوجیوں نے اپنے ٹینکوں کی مدد سے احتجاجی کارکنوں کی طرف سے مختلف سڑکوں پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے گولہ باری شروع کر دی جبکہ ان کے ہمراہ آنے والے خصوصی کمانڈوز نے مبینہ طور پر مشین گنوں سے عام شہریوں پر فائر کھول دیا۔

Syrien Militär Hama
تصویر: picture alliance/abaca

شام میں نیشنل آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم کے سربراہ عمار قرابی کے بقول صرف حماہ میں آج کم از کم 95 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی سو سے زائد ہے۔ عمار قرابی کے مطابق صدر بشار الاسد کے حامی سرکاری دستوں نے آج ملک کے مختلف شہروں میں جو آپریشن کیے، ان میں مجموعی طور پر کم از کم 121 شہری جاں بحق ہوئے اور سو سے کہیں زیادہ زخمی۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی اس قومی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ایسے کم از کم 62 شہریوں کے ناموں کی فہرست موجود ہے، جو آج اکتیس جولائی کو ملکی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ دیگر رپورٹوں کے مطابق آج حماہ میں 95، ملک کے مشرق میں واقع شہر دیا الزور میں 19 اور جنوبی شام میں کم از کم چھ افراد سرکاری دستوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔

قبل ازیں حماہ میں مقامی طبی ذرائع نے اس شہر میں آج ہلاک ہونے والوں کی کم از کم تعداد 45 اور زخمیوں کی تعداد سو سے زائد بتائی تھی۔ دوسری طرف اسی بارے میں برطانوی دارالحکومت لندن سے، شام میں انسانی حقوق کے مشاہداتی مرکز کی طرف سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ حماہ کے کم از کم تین مختلف ہسپتالوں میں طبی ذرائع نے ٹیلی فون پر لندن میں اس مرکز کے اعلیٰ عہدیداروں کو بتایا کہ آج کے فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 60 سے زائد بنتی ہے۔ خبر ایجنسی روئٹرز نے اپنی رپورٹوں میں شام میں انسانی حقوق سے متعلق لندن کے اسی مرکز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شہر میں زخمیوں کی تعداد اتنی ہے کہ ان کی جانیں بچانے کے لیے انہیں لگایا جانے والا خون کم پڑ گیا ہے۔

Syrien Militär Hama
تصویر: picture alliance/abaca

حماہ میں ایک ڈاکٹر نے اپنا نام بتائے بغیر ٹیلی فون پر روئٹرز کو بتایا کہ شامی فوج کے ٹینک شہر میں اپوزیشن کارکنوں پر ہر طرف سے حملے کر رہے ہیں اور جگہ جگہ مشین گنوں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ روئٹرز کے مطابق جب یہ ڈاکٹر ٹیلی فون پر عمان میں اس نیوز ایجنسی کے ایک نمائندے سے بات کر رہا تھا، تب بھی پس منظر میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

حماہ میں آج کے آپریشن کے بارے میں شام کی ایک سرکاری خبر ایجنسی نے بتایا ہے کہ شہر میں بہت سے مسلح افراد سڑکوں پر دندناتے اور گھروں کی چھتوں پر چڑھے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے شہریوں کو دہشت زدہ کر رہے ہیں۔ اس خبر ایجنسی نے لکھا ہے کہ شامی دستے شہر میں داخل ہو کر مسلح گروپوں کی طرف سے کھڑی کردہ رکاوٹیں دور کرنے اور صورت حال پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عصمت جبیں

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں