1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سلوواکیہ نے یورو امدادی فنڈ کی منظوری دے دی

14 اکتوبر 2011

سلوواکیہ نے بالآخر یورو زون کے امدادی فنڈ کے لیے نئے اختیارات کی توثیق کر دی ہے۔ اس پیش رفت سے یورپ میں قرضوں کے بحران پر قابو پانے کے لیے ’مؤثر‘ کوششوں کا راستہ کھُل گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/12reL
تصویر: dapd

سلوواکیہ یورو زون کے ارکان میں سے یہ فیصلہ کرنے والا آخری ملک ہے۔ دیگر سولہ ارکان پہلے ہی امدادی فنڈ (ای ایف ایس ایف) کے لیے اختیارات کی توثیق کر چکے ہیں۔

قبل ازیں سلوواکیہ کی پارلیمنٹ میں رواں ہفتے کے آغاز پر ہونے والی ووٹنگ میں یورو زون کے امدادی فنڈ کی توثیق نہیں ہو سکی تھی۔ اس وقت حکمران اتحاد میں شامل ایک چھوٹی جماعت کی وجہ سے یہ عمل ناکام رہا، جس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اس کے بعد جمعرات کو دبارہ ووٹنگ کرائی گئی۔ اس مرتبہ اپوزیشن کی مدد سے یہ عمل کامیاب رہا۔ اپوزیشن نے آئندہ برس قبل ازوقت انتخابات کے معاہدے پر اس مقصد کے حکومت کا ساتھ دیا۔

سلوواکیہ میں اس حوالے سے ووٹنگ ایسے وقت ہوئی، جب اب سے کوئی نو روز بعد یورپی یونین کا ایک خصوصی اجلاس ہونے والا ہے۔ اس اجلاس میں یورو زون کے بحران سے نمٹنے کے لیے ’جامع حکمت عملی‘ کی منظوری متوقع ہے۔ یہ توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس حکمت عملی میں یونان کے قرضوں کے بوجھ میں کمی کے لیے کارروائی بھی شامل ہو گی جبکہ یورپی بینکوں کو مستحکم بنانے کا منصوبہ بھی اس کا حصہ ہو گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سلوواکیہ کی پارلیمنٹ میں جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ کے نتائج کے بعد پالیسی سازوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، جو بحران سے چھٹکارا پانے کے لیے نئے امدادی فنڈ کے چار سو چالیس ارب یورو کو استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔

Parlament 2. Abstimmung Euro Rettungsschirm Slowakei NO FLASH
پارلیمنٹ میں منگل کو ہونے والی ووٹنگ ناکام رہی تھیتصویر: dapd

اس حوالے سے یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانوئیل باروسو اور یورپی کونسل کے صدر ہیرمان فان رومپوئے نے مشترکہ بیان میں کہا: ’’یورو زون کے ممالک میں مالیاتی استحکام کے دفاع کے لیے ای ایف ایس ایف ایک زبردست ذریعہ ہے۔‘‘

خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ یورو زون کا مالیاتی بحران عالمی اقتصادی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں