1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس طالبان کو مفت ڈیزل فراہم کر رہا ہے، رپورٹ

16 اکتوبر 2017

روس افغان طالبان کو ماہانہ بنیادوں پر تقریبا پچیس لاکھ ڈالر مالیت کا ڈیزل فراہم کر رہا ہے۔ برطانوی اخبار ٹائمز کے مطابق روس کی خفیہ ایجنسی گزشتہ تقریبا اٹھارہ ماہ سے ازبکستان کی سرحد سے ڈیزل سے بھرے ٹینکر بھیج رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/2lvSH
Pakistan Tanklastwagen in Karachi
تصویر: Imago

طالبان کے ایک خزانچی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ ڈیزل انہیں مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ اس خزانچی کا برطانوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمیں یہ مفت میں ملتا ہے، ہم صرف درآمدی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔‘‘ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ تیل طالبان کی ایک کمپنی کو فراہم کیا جاتا ہے اور پھر یہ کمپنی کابل میں موجود ’کاروباری حضرات‘ کو فروخت کر دیتی ہے۔

قبل ازیں افغان اور امریکی حکام نے بھی روس پر اسی طرح کے الزامات عائد کیے تھے۔ امریکی فوجی عہدیداروں کے مطابق روس افغانستان میں امریکی مشن کو کمزور بنانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے ایک وسیع رقبے پر حکمرانی کرنے والے طالبان ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ انہیں روس کی جانب سے کوئی مدد مل رہی ہے۔ روس بھی ایسے الزامات کو ابھی تک مسترد کرتا آیا ہے۔

روس کی طرف سے افغانستان کو اسلحہ جات کا تحفہ

اخبار کے مطابق اس رپورٹ کے حوالے سے ان کا طالبان کے کسی ترجمان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ ماضی میں طالبان نے امریکا اور سعودی عرب کی مدد سے سابق سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں لڑائی کرتے ہوئے انہیں شکست دی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ روس مبینہ طور پر ماضی کا بدلہ لینے کے لیے افغان طالبان کی مدد کر رہا ہو۔

قبل ازیں افغانستان میں فوجی کارروائیوں کے نگران ایک اعلیٰ امریکی جنرل جوزف ووٹل نے امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کو ایک سماعت کے دوران بتایا تھا کہ یہ عین ممکن ہے کہ ماسکو افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کو اسلحہ فراہم کرتا رہا ہو۔ یو ایس سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کا کہنا تھا، ’’روس یہ کوششیں کرتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں ایک بااثر تیسرا فریق بن جائے۔‘‘

روس کی افغانستان میں دلچسپی اچانک کیوں بڑھ گئی ہے؟

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم وُوڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر برائے اسکالرز کے ریسرچر مائیکل کوگلمین کا خیال ہے کہ افغانستان سے سابقہ سوویت یونین کو فرار ہونا پڑا تھا اور اب اک نئی جراٴت و ہمت کے ساتھ روسی حکومت کی شدید خواہش ہے کہ وہ افغانستان میں ایک زوردار انداز میں داخل ہو۔

یہ امر اہم ہے کہ روس نے سن 2007 میں افغان طالبان کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق روس اپنی مسلم اکثریتی آبادی والی جمہوریاؤں میں مسلمان عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی طالبان کے ساتھ رابطے استوار کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ ان عسکریت پسندوں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ انہیں مسلح تربیت افغان طالبان سے حاصل ہوتی ہے۔ پوٹن اِس تربیتی عمل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی راستوں سے منشیات کی اسمگلنگ کی بھی حوصلہ شکنی چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روس کو اس کا بھی اندیشہ ہے کہ شام اور عراق میں شکست کھانے کے بعد ’اسلامک اسٹیٹ‘ افغانستان کو اپنا محفوظ ٹھکانہ بنا سکتی ہے اور صدر پوٹن کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ روس کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو گا۔