1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

رقص اعضا کی شاعری ہے، جنسیت نہیں

صائمہ حیدر12 مئی 2016

شائستگی سے خم کھاتی ہوئی ہتھیلیوں کی پر اعتماد جنبش کے ساتھ اس نوجوان رقاصہ نے اپنے پیروں کو رقص گاہ کے فرش پر کچھ یوں دھرا جیسے وہ ہر طرح کے جبر اور تعصب کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو۔

https://p.dw.com/p/1ImVt
تصویر: Privat

مذہبی طور پر قدامت پسند پاکستان میں سُہائی ابڑو اور ان جیسی دوسری کلاسیکی رقص کی ماہر خواتین کے فن کو بہت سےافراد ملامت آمیز نظر سے دیکھتے ہیں ،جہاں اسے عموماً عصمت فروشی سے جوڑا جاتا ہے۔

سہائی ابڑو کہتی ہیں، ’’ہمیں اس بات کی مستقل وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ رقص فنون لطیفہ کی ایک قسم ہے۔ اس کا تعلق مردوں کی تفریح طبع یا جنسیت سے نہیں ہوتا۔ نہ ہی بازار حسن میں بکھری کہانیوں میں اس کا کوئی کردار ہے۔‘‘

رنگوں سے بھری خوبصورت ساڑھی باندھے، باوقار انداز میں کتھک رقص کی ایک قسم ’اوڈیسی‘ کی مشق کرتے ہوئے سہائی کے چہرے اور ہاتھوں کی جنبش ایک دوسرے سے بالکل ہم آہنگ تھی۔

Odissi Tanz
تصویر: Sajjad Hussain/AFP/Getty Images

رقص پاکستانی ثقافت اور فلموں کا حصہ ہے مگر وہاں بھی رقص سکھانا ویسے ہی پیچیدہ ہے جیسا کہ بالی ووڈ میں دیکھنے میں آتا ہے۔

تاہم ایک مسلم اکثریتی ملک میں خواتین کا خاندانی محفلوں کے علاوہ رقص کی کسی محفل میں حصہ لینا معاشرے کے لیے نا پسندیدہ فعل ہے جبکہ رقص کو پیشے کے طور پر اختیار کرنے پر تو یہ مزاحمت اور بھی شدید ہو جاتی ہے۔

اسی موضوع پربات کرتے ہوئے ’نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس‘ کے عہدے دار راحت کاظمی کا کہنا تھا، ’’بد قسمتی سے رقص کو اب لاہور کی ڈانسر لڑکیوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔‘‘

تاریخی اعتبار سے برصغیر میں کلاسیکی رقص مغلیہ سلطنت کی پروردہ طوائفوں کا میدان عمل رہا ہے۔ جاپانی طوائفوں کی طرح بر صغیر کی یہ طوائفیں بھی مغلیہ معاشرے میں رکھ رکھاؤ اور فنون لطیفہ کے ذوق کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔

لیکن برطانوی تسلط کے دوران ان کے سماجی مرتبے پر زوال آیا اور ان کی شناخت صرف طوائف کی حیثیت سے ہونے لگی۔ آج کے دور میں عصمت فروشی کے غیر قانونی کام پر پردہ ڈالنے کے لیے رقص کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔

Shantha Ratii
تصویر: Privat

راحت کاظمی کہتے ہیں، ’’اسی لیے عصمت فروشی اور فنِ رقص کے مابین یہ کہتے ہوئے ایک لکیر کھینچنا ضروری ہے کہ نہیں ۔۔ یہ بھی فن لطیف ہے۔‘‘

بھارت سے تعلق رکھنے والی فریال اسلم جو اینتھروپولوجسٹ اور بھارت ناتیم رقص کی ماہر ہیں،کہتی ہیں، ’’میں با عمل مسلمان ہوں اورڈانسر بھی ہوں۔ مجھے تواس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی جبکہ میرا دل بھی مطمئن ہے۔‘‘

’اوڈیسی‘ اور ’بھارت ناتیم‘ تاریخی لحاظ سے ہندو مت سے جڑے ہیں۔ پاکستان میں اس کی تربیت کے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کے سبب شوقین افراد کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کرنے کے لیے بھارت کا رخ کرتے ہیں۔