1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی امریکہ تعلقات مشکل میں

5 مارچ 2010

امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی نے ایک قرارداد کے ذریعے پہلی عالمی جنگ کے دوران ترکی میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی قراردے دیا۔ آرمینیا نے اس کا خیر مقدم کیا جبکہ ترکی نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔

https://p.dw.com/p/MKVn
اوباما انتظامایہ اس قرارداد کے حق میں نہیں تھیتصویر: AP

آرمینیا کے دارالحکومت یاراوان میں وزیر خارجہ ایڈورڈ نالبندیان نے اِس قرارداد منظورپرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی عوام آفاقی انسانی اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور یہ قدم دنیا میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اُدھرترکی نے امریکی کانگریس کی کمیٹی میں منظور ہونے والی قرارداد کے بعد واشنگٹن میں متعین اپنے سفیرکو مزید مشاورت کے لئےانقرہ طلب کر لیا ہے۔ ترک حکومت کے بیان میں اِس قرارداد کی منظوری کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ترک عوام نے ایسا کوئی جرم سرزد ہی نہیں کیا ہے۔ حکومتی بیان میں مزید کہا گیا کہ اِس سے ترکی اورآرمینیا کے درمیان تعلقات کی بحالی کا عمل بھی سست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔ ترکی نے امریکہ کو پہلے ہی متنبہ کر رکھا تھا کہ قرارداد کی منظوری سے امریکہ ترک تعلقات متاثر ہو سکتے اورگرمجوشی میں واضح کمی سامنے آ سکتی ہے۔

ترکی کے صدر عبداللہ گُل نے بھی امریکی ایوان نمائندگان کے پینل سے منظور ہونے والی قرارداد کی مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کی ترک عوام میں کوئی وقعت نہیں ہے اور اِس سے پیدا ہونے والی منفی پیچیدگیوں کا انقرہ ذمہ دار نہیں ہو گا۔

Vertragsunterzeichnung Türkei und Armenien
ترک اور آرمینیائی وزرائے خارجہ کی تصوری: فائل فوٹوتصویر: AP

امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں قائم خارجہ امور کی کمیٹی نے آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دینے والی قرارداد کو صرف ایک ووٹ سے منظور کیا ہے۔ حمایت میں تیئیس اور مخالفت میں بائیس ووٹ ڈالے گئے۔ اوباما انتظامیہ نے کانگریس سے درخواست بھی کی تھی ایسی کوئی کوشش انقرہ حکومت کو ناراض کر سکتی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی کمیٹی کے چیئرمین ہووارڈ بارمین کو قرارداد منظور نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ روایتی طور پر امریکہ پہلی عالمی جنگ کے دوران عثمانی دور میں ہونے والے اِس قتل عام کی مذمت کرتا ہے۔

دوسری جانب سفارت کاروں کا خیال ہے کہ قراداد کی منظوری سے اوباما انتظامیہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف امریکی پالیسی اورافغانستان سمیت فلسطین اسرائیل تنازعے کے حل کے سلسلے میں ترکی امریکہ کا حلیف ہے۔ قرارداد کی بظاہر کوئی عملی حثیت نہیں لیکن صدراوباما کو اِس مناسبت سے خارجہ پالیسی پراپنے سالانہ بیان میں وضاحت کرنا ہو گی۔

سن دو ہزار سات میں بھی ایسی ہی قرارداد کے متن کی منظوری پر ترک حکومت نے امریکی دارالحکومت میں تعینات اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور بعد میں اُس وقت کے صدر جورج ڈبلیو بُش نے قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کے عمل کو روک دیا تھا۔

Flaggen der USA und der Türkei // NO-FLASH
یہ قرار داد ترک امریکہ تعلقات کو متاثر کر سکتی ہےتصویر: DW

آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے حوالے سے ترک حکومت نے اپنے سابقہ مؤقف پر نظرثانی کے حوالے سے عثمانی دورِ حکومت میں رونما ہونے والے افسوس ناک واقعات کا تعین کرنے کے لئے مؤرخین کا ایک پینل قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا،جس کو تاریخی حقائق اور دستاویز کی روشنی میں کام کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

آرمینیائی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے دوران مہاجرت مجبور کئے گئے پندرہ لاکھ افراد راستے میں ہلاک کردیئے گئے تھے۔ ترکی کا خیال ہے کہ یہ تعداد تین سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔ گزشتہ سال اکتوبرمیں ترکی اورآرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ بھی ہوا تھا جوابھی بھی تشریحات کے عمل میں ہے اور ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کا منتظر ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق