1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تاریخ کی طویل ترین ماحولیاتی کانفرنس ختم، نتائج پر تنقید

12 دسمبر 2011

اقوام متحدہ کی تاریخ کی سب سے طویل ماحولیاتی کانفرنس جنوبی افریقہ میں اختتام پذیر ہوگئی۔ تقریباً 14 روز تک جاری رہنے والی کانفرنس میں 194 ممالک کے مندوبین کا تحفظ ماحول کے حوالے سے ایک پیکج پر اتفاق رائے ہو گیا۔

https://p.dw.com/p/13Qmk
تصویر: picture-alliance/dpa

 ڈربن میں 36 گھنٹوں کی توسیع کے بعد مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح چھ بجے اختتامی اعلامیہ جاری کیا گیا۔ ڈربن پیکج کے نام سے طے پانے والے اِس روڈ میپ کے مطابق آلودگی کا باعث بننے والے بڑے ملکوں کو پہلی بار زمینی درجہء حرارت میں اضافے کی رفتار کو کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہونے پر مجبور کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی ایسی کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں، جن کے ذمے سالانہ اربوں ڈالر کی وہ رقوم جمع کرنے، کنٹرول کرنے اور تقسیم کرنے کا کام ہو گا، جو غریب ملکوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فراہم کی جائیں گی۔ اس پیچیدہ اور دُور رَس اثرات کے حامل سمجھوتے کے ذریعے آئندہ عشروں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ کے لیے ایک نئے راستے کا تعین کر دیا گیا ہے۔

Maite Nkoana-Mashabane / Durban / Südafrika / Klimakonferenz
جنوبی افریقہ کی وزیرخارجہ مائیٹے نکوآنا ماشابانے نے کانفرنس کی سربراہی بھی کیتصویر: dapd

کیا یہ اتفاق رائے اس وجہ سے تو نہیں کہ مندوبین کے پاس مزید وقت نہیں تھا ؟ یا یہ پھر عالمی ماحولیاتی کانفرنس کی سربراہ اور جنوبی افریقہ کی وزیرخارجہ مائیٹے نکوآنا ماشابانے کی اپیلوں کا نتیجہ ہے۔ ان کےخیال میں’’ ہمیں یہ احساس ہو گیا کہ یہ نتیجہ مکمل نہیں ہے اور اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔ ہمیں اپنی ان خامیوں کو اپنے اچھے ارادوں اور منصوبوں کا دشمن نہیں بننے دینا چاہیے‘‘۔

تحفظ ماحول کے علمبرداروں اور ماحول دوست تنظیموں کے ساتھ ساتھ اُن چھوٹی جزیرہ ریاستوں نے بھی، جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں اور سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہو جانے کے نتیجے میں ڈوبنے کا خطرہ ہے، ڈربن پیکج پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس کا لب و لہجہ اور بھی زیادہ ٹھوس اور مستحکم ہونا چاہیے تھا۔ آخری وقت تک یورپی یونین کی کمشنر برائے ماحولیات کونی ہیڈے گراڈ ایک ٹھوس اور جامع معاہدے پر زور دیتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی بڑے مسئلے کا سامنا ہو، ایک عالمگیر مسئلے کا، ایک بین الاقوامی مسئلے کا تو رضاکارانہ انداز اور اہداف کے تعین سے اسے حل نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے زیراہتمام منعقد ہونے والی اس بارہ روزہ کانفرنس کو جمعہ 9 دسمبر کو ہی اختتام پذیر ہو جانا تھا لیکن پھر عین آخری لمحات میں مذاکرات طُول پکڑتے گئے اور آج اتوار کو کہیں چودہویں روز شرکاء کسی سمجھوتے پر متفق ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سمجھوتہ کئی برسوں کی اُن ناکام کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا مقصد چین اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی صنعتی طاقتوں کو ضرر رساں گیسوں کے اخراج کی مقدار محدود کرنے کے باقاعدہ قانونی ضوابط کا پابند بنانا تھا۔

Südafrika Durban Klimakonferenz 2011 gähnende Teilnehmer
تحفظ ماحول کے موضوع پر یہ اقوام متحدہ کی طویل ترین کانفرنس تھیتصویر: picture-alliance/dpa

اب تک محض صنعتی ممالک ہی 1997ء میں جاپانی شہر کیوٹو میں طے پانے والی کیوٹو دستاویز کے تحت اپنے اپنے ہاں فضا کے لیے ضرر رساں گیسوں کے اخراج کو محدود بنانے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔ تاہم اِس کیوٹو دستاویز کی مدت آئندہ برس ختم ہو رہی ہے۔ آج اتوار کو طے پانے والے ڈربن پیکج میں کیوٹو دستاویز میں طے کردہ اہداف کی مدت میں مزید پانچ سال تک کی توسیع کر دی گئی ہے۔

رپورٹ : امجد علی / عدنان اسحاق

ادارت: عابد حسین

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں