1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انٹرنیٹ پر قرض فراہم کرنے والی کمپنیاں بند کرنے کا حکم

21 نومبر 2017

چینی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر انٹرنیٹ پر قرض فراہم کرنے والی کمپنیاں بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس ملک میں انٹرنیٹ پر قرض فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔

https://p.dw.com/p/2o0h4
China Yuan Banknoten
تصویر: Getty Images/AFP

چین کے ایک اعلیٰ انتظامی ادارے نے تمام صوبائی حکومتوں کو انٹرنیٹ مائیکرو کریڈٹ کمپنیاں بند کرنے اور ایسی مزید کمپنیوں کو اجازت نامے جاری نہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ بیجنگ حکومت اس طرح آن لائن فنانس سیکٹر اور اس کے نتیجے میں پیدا والے مالی خطرات کو محدود کرنا چاہتی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق چین میں آن لائن قرض فراہم کرنے والی کمپنیاں علاقائی سطح پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس سے یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ انتہائی آسان طریقے سے قرض حاصل کرنے والے افراد مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جائیں گے۔

China bargeldloses Bezahlen
قرض فراہم کرنے والی انٹرنیٹ فرموں نے اسمارٹ فونز کے لیے اپنی ایپس بنا رکھی ہیںتصویر: picture-alliance/dpa/Z. Xin

چین میں قرض فراہم کرنے والی کمپنیاں زیادہ تر ان افراد کو قرض دے رہی تھیں، جنہیں بینک عمومی طور پر قرضے دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ کمپنیاں عام بینکوں کی نسبت زیادہ شرح سود پر قرض فراہم کرتی ہیں، جس سے یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے کہ مقروض شہری یہ رقوم واپس ادا نہیں کر سکے گا اور کئی برسوں تک ان نجی کمپنیوں کو اضافی رقوم بطور سود ادا کرتا رہے گا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایسی انٹرنیٹ فرموں نے اسمارٹ فونز کے لیے اپنی ایپس بنا رکھی ہیں۔ انہی ایپس کے ذریعے یہ سرمایہ جمع کرتی ہیں اور پھر آگے بطور قرض دے دیتی ہیں۔ گزشتہ سال کی نسبت چین میں رواں برس ایسی کمپنیوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ تقریباﹰ 140 ارب ڈالر کا کاروبار کر رہی ہیں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اس حوالے سے اسٹیٹ کونسل کے انفارمیشن آفس اور پیپلز بینک آف چائنہ سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان دونوں اداروں کی طرف سے کوئی جواب نہ دیا گیا۔ چینی حکومت ملکی معاشی نظام کو اپنے اور زیادہ کنٹرول میں لانا چاہتی ہے۔ چند ماہ قبل چین کی مرکزی حکومت نے ایسی تمام آن لائن ایکسچینج کمپنیاں بند کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے تھے، جو ڈیجیٹل کرنسیوں کا کاروبار کرتی تھیں۔