1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افضل گرو پر رحم نہ کیا جائے: بھارتی وزارتِ داخلہ

23 جون 2010

بھارتی وزارتِ داخلہ نے ملکی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث افضل گرو کی سزائے موت پر عملدرآمد کی درخواست کر دی ہے۔

https://p.dw.com/p/O0tW
تصویر: AP

یہ درخواست بھارتی وزارتِ داخلہ کی ایک رپورٹ میں کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بھارتی صدر پرتبھا پاٹل سے سفارش کی گئی ہے کہ موت کی سزا پانے والے افضل گرو پر رحم نہ کیا جائے اور اُس کی طرف سے کی گئی رحم کی اپیل مسترد کر دی جائے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ افضل گرو کے حوالے سے تیار کی جانے والی فائل کو جلد ہی وزیرِ اعظم کے دفتر بھیجا جائے گا اور اس کے بعد اِسے صدر کے پاس بھیج دیا جائے گا۔

صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر کو ابھی تک ایسی کوئی سفارش موصول نہیں ہوئی، جس میں گرو کی اپیل کو مسترد کرنے کی بات کی گئی ہو۔ " ہمیں ابھی تک وزارتِ داخلہ کی طرف سے افضل گرو کے حوالے سے کوئی بھی چیز موصول نہیں ہوئی ہے۔"

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر تاجندرکھنہ نے تین جون کو افضل گرو کی فائل وزارتِ داخلہ کو بھیجی تھی۔ یہ فائل وزارتِ داخلہ کی طرف سے 16 یاد دہانیوں کے بعد دہلی کی وزیرِ اعلیٰ شیلا ڈکشٹ کی حکومت کو بھیجی گئی۔

تیرہ دسمبر 2001ء کو پارلیمنٹ پرحملہ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے گرو کو ایک سیشن کورٹ نے 18 دسمبر 2002ء کو سزائے موت سنائی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے 29 اکتوبر 2003ء کو اپنے ایک فیصلے میں اس سزا کو برقرار رکھا تھا اور چار اگست 2005ء کو سپریم کورٹ نے بھی یہ سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے سزائے موت کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد سیشن کورٹ نے گرو کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لئے 20 اکتوبر 2006ء کی تاریخ مقرر کی لیکن اس کے بعد گرو کی بیوی تبسم نے اس سزا کے خلاف رحم کی اپیل کر دی۔ وزارت داخلہ نے اس اپیل کو دہلی حکومت کے حوالے کر دیا تھا، جو چار سال سے اس کے پاس پڑی رہی۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: امجد علی