1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائیل، ’ایران کے خلاف، سعودی عرب سے تعاون پر تیار ہے‘

صائمہ حیدر
16 نومبر 2017

اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اُن کا ملک ’مشرق وسطیٰ کو کنٹرول‘ کرنے کے ایرانی منصوبے کا سد باب کرنے کے لیے سعودی عرب سے تعاون کے لیے تیار ہے۔

https://p.dw.com/p/2nlXy
Symbolbild - Isreal Premierminister Benjamin Netanjahu
تصویر: DAN BALILTY/AFP/Getty Images

ایلاف نامی خبروں کی سعودی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل کے چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل گادی آئسن کوٹ نے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہم ایران کے مقابلے کے لیے اعتدال پسند عرب ممالک کے ساتھ اپنے تجربات اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

اس سوال پر کہ کیا حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ کسی قسم کی خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے، آئسن کوٹ کا کہنا تھا،’’ اگر ضروری ہوا تو ہم معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے بہت سے مفادات مشترک ہیں۔‘‘

اسرائیلی فوج نے اس انٹرویو کے مواد کی تصدیق کی ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین کوئی سرکاری سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ سنی اکثریتی عرب ملک سعودی عرب اور اور شیعہ اکثریتی غیر عرب ملک ایران میں تعلقات عرصے سے کشیدہ ہیں اور یہ کشیدگی حالیہ کچھ ہفتوں میں بڑھ گئی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے اپنے عہدے سے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ملک کے معاملات میں ایران کے عمل دخل کا الزام عائد کیا تھا۔ چار نومبر کو اپنے ایک نشریاتی خطاب میں انہوں نے ایران اور اس کی اتحادی سمجھی جانے والی لبنانی شیعہ انتہا پسند تنظیم حزب اللہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

حزب اللہ نے بھی سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لبنان میں اس شیعہ ملیشیا پر حملوں کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی ریاض حکومت پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین سن 2006 میں ایک خونریز جنگ ہو چکی ہے۔ آئسن کوٹ نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا،’’ ہم لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ کوئی نیا تنازعہ شروع نہیں کرنا چاہتے لیکن ہم وہاں اسرائیل کے لیے کسی قسم کے عسکری خطرات بھی مول نہیں لے سکتے۔‘‘