1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

احمدی نژاد کی حلف برداری پر ایران میں مظاہرے

6 اگست 2009

محمود احمدی نژاد نے پانچ اگست کو پارلیمان کے سامنے دوسری بار صدارتی عہدے کا حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی تقریب کے موقع پر مظاہرے کا سلسلہ بھی جاری رہا اس سلسلے میں ڈوئچے ویلے کے شعبہء فارسی کے سربراہ جمشید فاروقی کا تبصرہ:

https://p.dw.com/p/J52q
احمدی نژاد سے آیت اللہ خامنہ ای حلف لے رہے ہیںتصویر: AP

یہ بات تو پہلے سے ہی واضح تھی کہ ایران اس وقت ایک ایسی صورتحال سے گزر رہا ہے، جس کے اثرات بہت گہرے ہوں گے۔ خود آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے سترہ جولائی کو جمعہ کے تاریخی خطبے میں ملکی سیاست میں اعتماد کے بحران کی نشان دہی کی تھی۔ اس مسئلے کا حل شدید نوعیت کے تشدد سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اب یہ سیاسی بحران ایک جانی پہچانی یعنی احمدی نژاد کی شکل میں واضح طور پر سامنے آ گیا ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے سامنے احمدی نژاد نے تین جولائی ہی کو ایک تقریب میں حلَف اٹھا لیا تھا۔ یہی عمل ایک واضح نشانی تھی، عدم اعتماد کی فضا اور اُن کے تنہا ہونے کی۔ ایک طرف تو پارلیمان میں اُن کی تقریب حلَف برداری میں حکومت کی ناقد نامور مذہبی شخصیات جیسے کہ اکبر ہاشمی رفسنجانی اور سابق صدر محمد خاتمی سمیت متعدد اصلاح پسندوں نے حصہ نہیں لیا۔ دوسری طرف چند مغربی ممالک کی طرف سے احمدی نژاد کے دوبارہ صدر بننے کے متنازعہ فیصلے کا خیر مقدم نہ کرتے ہوئے انہیں معمول کا مبارکباد کا پیغام بھی نہیں بھیجا گیا۔ ان ممالک میں امریکہ، فرانس اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔

Iran - Proteste
عالمی برادری کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ صدیوں سے جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والے عوام کا ساتھ دینا چاہتی ہے یا تہران حکومت کا، جو جمہوریت سے بے انتہا نفرت کرتی ہےتصویر: AP

قدامت پسند صدر اپنے عہدے کا حلف سرکاری طور پر اٹھا چکے ہیں تاہم ملک میں مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس سے ایک روز قبل چار اگست کو ہی آیت اللہ حسین علی منتظری نے اس شو کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیا تھا۔

احمدی نژاد کے دوسرے صدارتی دور میں سیاسی اور اقتصادی بحران پر مزید بوجھ پڑے گا۔ ایران میں موجودہ دور اور آنے والے وقتوں کے مسائل کی ایک طویل فہرست ہے۔

احمدی نژاد کی سرکاری حلَف برداری ان پر عدم اعتماد کی صورتحال کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ اِس شو اور خود کو زبردستی منوانے کی کوششوں سے وہ شکوک و شبہات دور کرنے میں مدد نہیں ملے گی، جو ان کے صدر بننے کے قانونی جواز سے متعلق پائے جاتے ہیں۔ پر امن مظاہرین پر سلامتی کے اہلکاروں کے تشدد نے تمام دنیا کو یقین دلا دیا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ایران میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاتی رہیں گی۔ خود ساختہ مسائل کی شکار ایرانی قیادت کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں عالمی برادری کو بھی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

ایران اپنا متنازعہ ایٹمی پروگرام آگے بڑھاتا رہے گا، تہران حکومت آئندہ بھی حماس اور حزب اللہ کی مدد اور عراق اور افغانستان میں مداخلت کرتی رہے گی۔ عالمی برادری کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ صدیوں سے جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والے عوام کا ساتھ دینا چاہتی ہے یا تہران حکومت کا، جو جمہوریت سے بے انتہا نفرت کرتی ہے۔

تبصرہ : جمشید فاروقی / کشور مصطفیٰ

ادارت : امجد علی